گدھے کہیں کے

Amir Hameed My Writings, Page of My Diary 0 Comments

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کالج میں گریجویٹ کا طالبعلم تھا۔ گرمیوں کے دن تھے۔  ان دنوں ٹرانسپورٹ کیلیے نیو خان بسیں یہاں بہت عام تھی۔ طلبہ اور طالبات کیلیے کرایہ یا تو ایک روپیہ تھا یا وہ اکثر مفت سفر کر لیتے تھے۔ میرا آخری لیکچر کافی دیر سے ہوتا تھا۔ اس آخر لیکچر کو لے کر میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ کالج سے گھر تک ہم کو دو بسیں بدلنی پڑتی تھی۔
اس دن میں کچھ زیادہ ہی لیٹ ہو گیا تھا۔ اب مجھے کافی بھوک لگ رہی تھی۔چاہتا تھا کے بس ابھی آنکھ بند کروں اور گھر پہنچ جاوں۔
ابھی میں گھر سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہی تھا۔ کہ بس رک گئی۔ میں نے اس کا خیال نہیں کہ کیا وجہ ہے۔ کیونکہ مختلف وجوحات کی بناپر بسوں کا اس طرح رکنا عام سی بات تھی۔ کبھی ٹریفک، کبھی لڑائی، کبھی ٹائر پنکچر۔
جب بس کافی دیر تک رکی رہی تو میں نے اٹھ کر دیکھنا چاہا کہ کیا ماجرا ہے۔
آگے دیکھا تو ٹریفک جام تھی۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہوا ۔ کہیں کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا۔ میں نے سوچا یہاں سے پیدل ہی چلا جاتا ہوں گھر۔ پتہ نہیں کب ٹریفک کھلے گی۔ میں بس سے اترا۔ اور فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے آگے آ گیا۔ تجسس تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ جب میں آگے پہنچا تو دیکھا کہ کوئی حادثہ نہیں ہوا بلکہ ایک شدید قسم کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اور کافی سارے لوگ اردگرد کھڑے ہو کر یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ پیچھے کاریں بسیس ہارن پر ہارن مار رہیں تھی۔ کوئی بھی ایسا نا تھا جو کہ آگے بڑھ کر لڑائی  ختم کروا سکے اور ان کو منا سکے کیونکہ وہ لڑنے والے تو آخر گدھے تھے۔ وہ بھلا کیسے سمجتھے ؟
مجھے حیرانگی تھی کہ کیسے اس لڑائی نے پیچھے اچھی خاصی ٹریفک جام کی ہوئی تھی اور اوپر سے مسلہ یہ کہ ان کو کوئی سمجھا نہیں سکتا تھا۔
کیونکہ وہ تو تھے آخر گدھے۔۔۔

Leave a Reply