Second Annual Microsoft Conference

Amir Hameed My Writings, Page of My Diary Leave a Comment

میں ٹائم سے کچھ آدھا گھنٹہ پہلےہی اواری ہوٹل پہنچ گیا۔ اندر سے کوئی محل محسوس ہو رہا تھا۔ میں لفٹ کے زریعے پہلے اس منزل تک پہنچا جہاں کانفرنس کا انقاد ہوناتھا۔ اُس ہال میں داخل ہونے سے بیشترایک کمرہ تھا جہاں ایک لڑکے نے مجھ سے میرا ہوٹ میل کا ای میل مانگا اور مجھے فیکیولٹی ممبرزمیں شامل کرلیا۔ وہاں سے میں ہال میں داخل ہوا۔ میرااستقبال کسی مہمان خصوصی کی طرح ہوا۔ایک لڑکی مجھ کوآگے موجود نشستوں پر لے گئی۔ خصوصی مہمانوں کے بعد سٹیج سے قریبی نشت مجھے ملی۔ مجھے سے پہلے صرف ایک مزید لڑکا وہاں مدعو تھا۔جو مجھ سے بھی پہلے آ چکا تھا۔ شائد صرف میں لاہور سے تھا۔ باقی سارے مہمان جو آئے ہو پورے پاکستان سے بلائے گئے تھے۔ جن کی تعداد تقریبا150تھی۔
ہر نشست کے سامنے ایک پین،نوٹ پیڈ،بروشر،جگ،گلاس….. اور ایک کپ میں کچھ گولیاں پڑی ہوئی تھیں جو کی میں سمجھا کہ چوہے مار گولیاں ہوں گی یا ہوا کو خوشگوار رکھنے کے لیے ہوگئی۔ زہریلی ہو سکتی تھیں اس لیے میں نے انے ہاتھ تک نہیں لگایا۔جب سارے مہمان آچکے تو فورا کانفرنس شروع ہو گئی۔ مختلف لوگ کوٹ پہنے سامنے آتے اور کچھے بول کرچلے جاتے۔ لیکن میرا دھیان
کہیں اور تھا۔

یہ لوگ کسی ونڈوز 7 کا ذکر کر رہے تھے۔ جب میں نے یہ الفاظ سنے تو سوچنے لگا کہ یہ کونسی نئی ونڈو آگئی۔ مجھے شک ہوکہ یہ کوئی دو نمبر مائیکروسافٹ تو نہیں جو اپنی ہی ونڈو بنا رہی ہے۔ ونڈوز ایکس پی کے بعد وسٹا اور لانگ ہارن کا ہی نام سنا تھا میں نے۔ اس لیے یہ ونڈو مجھے جعلی لگ رہی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اس بار ونڈوزمیں پاکستان کو خاص طور پر شامل  کیا گیا ہے۔ جو صاحب یہ کہہ رہے تھے وہ ایک بھاری بھرکم انسان تھے اور واحد ایک ایسے شخص تھے جو شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے۔ اس نے بتایا کے اب اردو زبان کو باقاعدہ طور پر ونڈوزکی انسٹالیشن میں شامل کیا گیا ہے۔ میرے ساتھ بیٹھے ایک شخص نے بتایا کے یہ مائیکروسافٹ میں لوکلیزیشن مینجرہیں اور میرے باس ہیں۔

تھوڑی دیر کے لیے میرا دھیان ان کے الفاظ پر جاتا لیکن واپس ان گولیوں پر آ جاتا۔میں مسلسل ان گولیوں کو دیکھے جا رہا تھا۔ تقریبا آدھا وقت گزر کیا۔تب ایک شخص نے اس کپ میں کچھ گولیاں نکال کر کھا لی۔ جیسے ہی اس نے اپنا بازو گولیوں کی طرف بڑھیا۔میری نگاہ بھی حرکت میں آئی اور اس کے ساتھ چلتے چلتے اس کے منہ پر رکی۔ میری آنکھیں اور منہ دونوں کھلے ہوئے تھے۔  سب لوگ سٹیج کی طرف دیکھ رہے تھے اور میں اس شخص کی طرف۔

کچھے دیر بعد مجھے واش روم جانے کی حاجت ہوئی۔ جب ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچا تو وہاں ہلکی سی موسیقی چل رہی تھی۔ وہاں ایک شخص کام کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا خیریت ہے یہاں میوزک کیوں چل رہا ہے۔ وہ کہنے لگا آپ شائد پہلی بار ایسے ہوٹل میں آئے ہیں ۔ میں نے کہا ایسے ہوٹل میں تو آتا جاتا ہوں لیکن اس ہوٹل میں پہلی بار آیا ہوں۔ پھر وہ کہنے لگا ایسے ہوٹلز میں واش رومز میں میوزک چلایا جا تا ہے۔

جب میں واش بیسن کی طرف بڑھا تو مجھے کوئی چیز نظر نہیں جس سے میں نل کھول سکتا۔ تھوڑی دیر سوچتا رہا۔  اس آدمی نے مجھے دیکھ لیا اور جان لیا ک مجھے معلوم نہں کے نل کو کیسے استعمال کرناہے۔ اس نے بتایا کے نل کے نیچےہاتھ کرنے پر پانی خود با خود آجائے گا۔
او میرے خدایا ۔ مجھے یہ بلکل معلوم نہیں تھا کہ جو چیز میں بچپن میں سوچتا تھا پھر لوگوں سے سنتا تھا کہ یہ طریقہ ایجاد ہو چکا ہے۔ بلکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ چیز استعمال میں بھی آچکی ہے۔

جب واپس ہال میں آیا تو تقریب تقریبا ختم ہو چکی تھی۔ پھر سب لوگوں کو کہا گیا دائیں طرف کھانے کا انتظام کیا گیا ہے سب لوگ وہاں تشریف لے جائیں۔

وہاں بہت سی قسم کے کھانے تھے۔  جیسا کہ مجھے میٹھا بہت پسند ہے میں نے ساری میٹھی ڈشز کو تھوڑا تھوڑا چکھا۔  پھر تھوڑا سا گوشت بھی چکھا۔ حالانکہ میں گوشت کھاناپسند نہیں کرتا لیکن یہ والا اچھا تھا۔ میں نے سب چیزوں کو چکھا تھوڑا تھوڑا اور عادت کے مطابق تھوڑا سا پیٹ کو خالی رکھا۔ یہ کھانا بہت اچھا تھا پی سی ہوٹل میں کھائے ہوئے کھانے سے بھی اچھا لگا۔ لیکن پھر بھی میرا دھیان کسی چیز پر تھا۔ اس لیے میں تھوڑا تھوڑا کھا کر جلدی وہاں سے نکلا اور اپنی نشست پر آ گیا۔ کپ میں سے وہ گولیاں نکالی ۔ اپنی جیب میں ڈالی اور وہاں سے راونہ ہو گیا۔ کانفرنس کیونکہ پہلے ہے ختم ہوچکی تھی اس لیے اب وہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اور مجھے ابھی این سی اے بھی جانا تھا۔ سو میں جلدی نکل گیا جبکہ باقی لوگ ابھی کھانا کھا رہے تھے۔

راستے میں میں وہی گولیاں کھاتا آیا۔ جو تھی پولو۔ ہول والی گولی       🙂

Leave a Reply