اسلامی معاشرے کی اصلاح: ایک سے زائد نکاح کی حکمت اور جہیز کا خاتمہ

Amir HameedGeneral

آج کا مسلم معاشرہ بہت سے سماجی اور اخلاقی مسائل کا شکار ہے، جن کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ دو اہم مسائل جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں وہ ہیں “ایک سے زائد نکاح” کے تصور کو غلط سمجھنا اور “جہیز” جیسی غیر اسلامی رسم کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ اگر مسلمان مرد ان دو معاملات میں قرآن و سنت کی روح کو سمجھ لیں تو معاشرے کی بہت سی برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔


ایک سے زائد نکاح: ذمہ داری، عیاشی نہیں

اسلام نے مرد کو ایک سے زائد (چار تک) شادیاں کرنے کی اجازت کچھ خاص شرائط اور حکمتوں کے تحت دی ہے۔ اس اجازت کا مقصد معاشرتی توازن قائم کرنا اور عورت کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ صرف مرد کی نفسانی خواہشات کو پورا کرنا۔

1. انصاف کی شرط: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سورۃ النساء، آیت 3 میں فرماتا ہے:

“فَانكِحُوامَاطَابَلَكُممِّنَالنِّسَاءِمَثْنَىٰوَثُلَاثَوَرُبَاعَۖفَإِنْخِفْتُمْأَلَّاتَعْدِلُوافَوَاحِدَةً”

ترجمہ: “پس جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔” اس آیت میں اجازت کے فوراً بعد “انصاف” کی کڑی شرط لگائی گئی ہے۔ یہ انصاف صرف نان نفقہ اور رہائش تک محدود نہیں بلکہ بیویوں کے درمیان وقت، توجہ اور حقوق کی برابری پر مبنی ہے۔ جو مرد یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا، اس کے لیے ایک سے زائد نکاح جائز نہیں۔

2. معاشرتی ضرورت: اسلام کا یہ قانون معاشرے میں بیواؤں، مطلقہ (طلاق یافتہ) خواتین اور ایسی عورتوں کو سہارا اور عزت دینے کا بہترین ذریعہ ہے جن کی کسی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی۔ جنگوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر جب معاشرے میں مردوں کی تعداد کم ہو جائے تو یہ قانون عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسے بے سہارا ہونے سے بچاتا ہے۔ یہ معاشرے کو اخلاقی بے راہ روی اور گناہ سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

3. سنتِ نبوی ﷺ: ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے بھی ایک سے زائد نکاح کیے۔ آپ ﷺ کی ہر شادی کے پیچھے عظیم حکمتیں تھیں، جن میں بیواؤں کو سہارا دینا، قبائل کو جوڑنا اور اسلامی تعلیمات کو خواتین تک پہنچانا شامل تھا۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ یہ رشتہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔

آج کے دور میں دوسری شادی کو صرف عیش و عشرت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری قبول کرنے کا نام ہے۔ جو مرد مالی اور جسمانی طور پر مستحکم ہے اور تمام بیویوں کے درمیان مکمل انصاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے معاشرے کی ضرورت مند خواتین کا سہارا بننے کے لیے اس سنت پر عمل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔


جہیز: ایک غیر اسلامی اور ظالمانہ رسم

جہاں اسلام نے مرد پر ایک سے زائد بیویوں کی کفالت کی بھاری ذمہ داری ڈالی، وہیں شادی کے نام پر لڑکی والوں سے مال و اسباب کا مطالبہ کرنے، جسے “جہیز” کہتے ہیں، کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ جہیز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ ایک ہندوانہ رسم ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل چکی ہے۔

1. اسلامی تصورِ نکاح کے خلاف: اسلام میں نکاح ایک سادہ اور آسان معاہدہ ہے۔ مرد عورت کو “مہر” ادا کرنے کا پابند ہے، جو عورت کا شرعی حق ہے۔ جہیز کا مطالبہ اس کے بالکل برعکس ہے، جہاں لڑکے والے لڑکی والوں پر مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔ یہ نکاح کو ایک تجارت بنا دیتا ہے، جس میں عورت اور اس کے خاندان کی عزت کا سودا کیا جاتا ہے۔

2. سنت سے دوری: نبی کریم ﷺ نے اپنی سب سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح انتہائی سادگی سے کیا۔ ان کے جہیز میں گھر کی ضرورت کی چند بنیادی چیزیں تھیں، جو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مہر کی رقم سے خریدی تھیں۔ یہ ہمارے لیے بہترین مثال ہے کہ نکاح کو آسان بنانا چاہیے۔

3. معاشرتی تباہی: جہیز کی لعنت نے لاکھوں غریب والدین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بیٹیاں رحمت کے بجائے زحمت سمجھی جانے لگی ہیں۔ کئی لڑکیاں صرف اس لیے بن بیاہی بیٹھی رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کے والدین جہیز کا بندوبست نہیں کر سکتے۔ یہ ظلم اور لالچ پر مبنی ایک ایسی رسم ہے جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہر مسلمان مرد کا فرض ہے۔


خلاصہ

ایک حقیقی مسلمان مرد وہ ہے جو اپنی ذمہ داریاں سمجھے۔

  • اسے چاہیے کہ وہ جہیز کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ وہ شادی کے لیے کسی قسم کا مطالبہ نہ کرے اور نکاح کو سنت کے مطابق آسان بنائے۔
  • اگر وہ مالی اور اخلاقی طور پر اس قابل ہے کہ ایک سے زائد بیویوں کے درمیان مکمل انصاف کر سکے، تو اسے معاشرتی اصلاح کی نیت سے دوسری شادی پر غور کرنا چاہیے تاکہ بیواؤں، مطلقہ اور ضرورت مند خواتین کو ایک باعزت زندگی مل سکے۔

اصل مردانگی عورت سے مال بٹورنے میں نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری اٹھانے اور اسے عزت و تحفظ دینے میں ہے۔ آئیے، اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور ایک صحت مند اور پاکیزہ معاشرہ تشکیل دیں۔

جہیز: ایک غیر اسلامی اور ظالمانہ رسم

جہاں اسلام نے مرد پر ایک سے زائد بیویوں کی کفالت کی بھاری ذمہ داری ڈالی، وہیں شادی کے نام پر لڑکی والوں سے مال و اسباب کا مطالبہ کرنے، جسے “جہیز” کہتے ہیں، کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ جہیز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ ایک ہندوانہ رسم ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل چکی ہے۔

1. اسلامی تصورِ نکاح کے خلاف: اسلام میں نکاح ایک سادہ اور آسان معاہدہ ہے۔ مرد عورت کو “مہر” ادا کرنے کا پابند ہے، جو عورت کا شرعی حق ہے۔ جہیز کا مطالبہ اس کے بالکل برعکس ہے، جہاں لڑکے والے لڑکی والوں پر مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔ یہ نکاح کو ایک تجارت بنا دیتا ہے، جس میں عورت اور اس کے خاندان کی عزت کا سودا کیا جاتا ہے۔

2. سنت سے دوری: نبی کریم ﷺ نے اپنی سب سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح انتہائی سادگی سے کیا۔ ان کے جہیز میں گھر کی ضرورت کی چند بنیادی چیزیں تھیں، جو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مہر کی رقم سے خریدی تھیں۔ یہ ہمارے لیے بہترین مثال ہے کہ نکاح کو آسان بنانا چاہیے۔

3. معاشرتی تباہی: جہیز کی لعنت نے لاکھوں غریب والدین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بیٹیاں رحمت کے بجائے زحمت سمجھی جانے لگی ہیں۔ کئی لڑکیاں صرف اس لیے بن بیاہی بیٹھی رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کے والدین جہیز کا بندوبست نہیں کر سکتے۔ یہ ظلم اور لالچ پر مبنی ایک ایسی رسم ہے جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہر مسلمان مرد کا فرض ہے۔


خلاصہ

ایک حقیقی مسلمان مرد وہ ہے جو اپنی ذمہ داریاں سمجھے۔

  • اسے چاہیے کہ وہ جہیز کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ وہ شادی کے لیے کسی قسم کا مطالبہ نہ کرے اور نکاح کو سنت کے مطابق آسان بنائے۔
  • اگر وہ مالی اور اخلاقی طور پر اس قابل ہے کہ ایک سے زائد بیویوں کے درمیان مکمل انصاف کر سکے، تو اسے معاشرتی اصلاح کی نیت سے دوسری شادی پر غور کرنا چاہیے تاکہ بیواؤں، مطلقہ اور ضرورت مند خواتین کو ایک باعزت زندگی مل سکے۔
  • معاشرتی ضرورت: بعض اوقات پہلی بیوی بیمار ہو جاتی ہے، یا اولاد نہ ہونے کی وجہ سے خاندان پر دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسی صورت میں دوسری شادی ایک مثبت اور جائز حل ہے۔
  • عفت و پاکیزگی کا تحفظ: دوسری شادی مرد کو ناجائز تعلقات سے بچاتی ہے اور معاشرے میں بے راہ روی کو کم کرتی ہے۔
  • یتیم و بیوہ خواتین کی کفالت: اسلام نے مرد کو یہ اختیار دیا تاکہ وہ ان خواتین کو سہارا دے سکے جو تنہا رہ گئی ہوں۔